حقیقت پر مبنی ایک دُکھ بھری داستان
طاہر ملنگزئی اکتوبر 6, 2018 بلاگ
سنگت طاہر ملنگزئی
ایک بہت ہی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا خاران قلعی نارو کا رہائشی عتیق الرحمٰن جو اپنے بیوی کا علاج کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں کروا رہا تھا جو کہ کینسر کے ایک موذی مرض میں مبتلا تھی۔ چار، پانچ سال تک بیوی کا علاج کرواتے کرواتے اسے بہت سی مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔ اپنے رشتہ داروں، ہمسایوں سے علاج کے لیے پیسے اکھٹے کر کے وہ اپنی بیوی کی علاج کرواتا رہا۔
اس دوران اس کے چھوٹے بیٹے کا حادثہ ہو گیا۔ موٹر سائیکل سے گرنے کی وجہ سے اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ باپ کو کراچی میں اس حادثے کا فوراً پتا چل گیا، تو اس نے اپنی بیوی کا علاج مکمل کیے بغیر اسے لے کر واپس خاران جانے کی تیاری کی۔ خاران پہنچنے سے پہلے
اسک ے بھائی اور قریب کے رشتہ داروں نے اس کے بیٹے کو سول ہسپتال کوئٹہ علاج کے لیے داخل کروا دیا تھا۔
آخر کار خاران پہنچتے ہی وہ پریشانی کی حالت میں کوئٹہ روانہ ہوگیا۔ وہاں ایک ہفتے تک اپنے بیٹے کے پاس رہا اور بہت پریشان تھا۔ دماغی طور پر وہ کچھ بھی نہیں کر پا رہا تھا۔ بیٹوں نے اپنے باپ کی پریشانی دیکھ کر اسے واپس خاران جانے کو کہا کہ ہم یہاں بھائی کی تیماداری کے لیے کافی ہیں، ہم اس کا اچھا خاصا خیال رکھیں گے، مزید آپ کو ہم یہاں دکھ کے عالم میں نہیں دیکھ سکتے۔ تب آخر کار باپ نے رضامندی سے واپس جانے کو ہی صحیح جانا۔
خداوند تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ تقریبآ ایک ہفتے کے بعد مسلم کو کوئٹہ کے ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دیا، تو بھائی مایوس ہو کر اسے واپس خاران لے جانے کی تیاری کی۔ اسے خاران لے جانے کے لیے ایمبولینس کی ضرورت تھی کیونکہ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے وہ ایک زندہ لاش کی مانند تھا۔ ایمبولینس والوں نے بہت بڑی رقم کی طلب کی۔ مسلم کے بھائیوں نے ایک بار پھر ایک دوسرے سے مانگ تانگ کر مطلوبہ رقم بڑی مشکل سے جمع کر کے خاران تک ایمبولینس کرایے پر لی۔
اُدھر خاران میں اس کے باپ کو پہلے ہی سے اس کے لاعلاج ہونے کا پتہ چل چکا تھا۔ وہ اپنی بے بسی و لاچاری کے سامنے بے بس ہو چکا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
آخر کار اپنی بے بسی سے تنگ آ کر، دنیا کے دکھ اور پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حالت میں اس نے کچھ اور ہی سوچ لیا۔ ایک اندھیری رات میں اس نے گلے میں رسی ڈال کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔
آخر کار اس نے ایسا کیوں کیا؟
اس کا ذمہ دار کون ہے….؟
حکمرانوں کے سامنے جھولی پھیلا کر اسے کچھ اسے کچھ نہیں ملا۔۔۔
آخر کار وہ کرتا تو کیا کرتا۔۔۔۔!
اب اس کے بیٹوں کی وزیراعلیٰ بلوچستان، ایم پی اے خاران واجہ ثنا بلوچ اور بلوچستان کے تمام سرمایہ دار لوگوں سے دست بستہ اپیل ہے خدارا ہمارے بھائی مسلم کے علاج کے لیے کچھ بندوبست کریں۔ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے اس کے زخم دن بدن ناسور بنتا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ پورا خاندان مایوسی میںگِھر کر کسی اندوہناک حادثے کا شکار نہ ہو جائے۔
طاہر ملنگزئی اکتوبر 6, 2018 بلاگ
سنگت طاہر ملنگزئی
ایک بہت ہی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا خاران قلعی نارو کا رہائشی عتیق الرحمٰن جو اپنے بیوی کا علاج کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں کروا رہا تھا جو کہ کینسر کے ایک موذی مرض میں مبتلا تھی۔ چار، پانچ سال تک بیوی کا علاج کرواتے کرواتے اسے بہت سی مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔ اپنے رشتہ داروں، ہمسایوں سے علاج کے لیے پیسے اکھٹے کر کے وہ اپنی بیوی کی علاج کرواتا رہا۔
اس دوران اس کے چھوٹے بیٹے کا حادثہ ہو گیا۔ موٹر سائیکل سے گرنے کی وجہ سے اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ باپ کو کراچی میں اس حادثے کا فوراً پتا چل گیا، تو اس نے اپنی بیوی کا علاج مکمل کیے بغیر اسے لے کر واپس خاران جانے کی تیاری کی۔ خاران پہنچنے سے پہلے
اسک ے بھائی اور قریب کے رشتہ داروں نے اس کے بیٹے کو سول ہسپتال کوئٹہ علاج کے لیے داخل کروا دیا تھا۔
آخر کار خاران پہنچتے ہی وہ پریشانی کی حالت میں کوئٹہ روانہ ہوگیا۔ وہاں ایک ہفتے تک اپنے بیٹے کے پاس رہا اور بہت پریشان تھا۔ دماغی طور پر وہ کچھ بھی نہیں کر پا رہا تھا۔ بیٹوں نے اپنے باپ کی پریشانی دیکھ کر اسے واپس خاران جانے کو کہا کہ ہم یہاں بھائی کی تیماداری کے لیے کافی ہیں، ہم اس کا اچھا خاصا خیال رکھیں گے، مزید آپ کو ہم یہاں دکھ کے عالم میں نہیں دیکھ سکتے۔ تب آخر کار باپ نے رضامندی سے واپس جانے کو ہی صحیح جانا۔
خداوند تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ تقریبآ ایک ہفتے کے بعد مسلم کو کوئٹہ کے ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دیا، تو بھائی مایوس ہو کر اسے واپس خاران لے جانے کی تیاری کی۔ اسے خاران لے جانے کے لیے ایمبولینس کی ضرورت تھی کیونکہ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے وہ ایک زندہ لاش کی مانند تھا۔ ایمبولینس والوں نے بہت بڑی رقم کی طلب کی۔ مسلم کے بھائیوں نے ایک بار پھر ایک دوسرے سے مانگ تانگ کر مطلوبہ رقم بڑی مشکل سے جمع کر کے خاران تک ایمبولینس کرایے پر لی۔
اُدھر خاران میں اس کے باپ کو پہلے ہی سے اس کے لاعلاج ہونے کا پتہ چل چکا تھا۔ وہ اپنی بے بسی و لاچاری کے سامنے بے بس ہو چکا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
آخر کار اپنی بے بسی سے تنگ آ کر، دنیا کے دکھ اور پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حالت میں اس نے کچھ اور ہی سوچ لیا۔ ایک اندھیری رات میں اس نے گلے میں رسی ڈال کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔
آخر کار اس نے ایسا کیوں کیا؟
اس کا ذمہ دار کون ہے….؟
حکمرانوں کے سامنے جھولی پھیلا کر اسے کچھ اسے کچھ نہیں ملا۔۔۔
آخر کار وہ کرتا تو کیا کرتا۔۔۔۔!
اب اس کے بیٹوں کی وزیراعلیٰ بلوچستان، ایم پی اے خاران واجہ ثنا بلوچ اور بلوچستان کے تمام سرمایہ دار لوگوں سے دست بستہ اپیل ہے خدارا ہمارے بھائی مسلم کے علاج کے لیے کچھ بندوبست کریں۔ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے اس کے زخم دن بدن ناسور بنتا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ پورا خاندان مایوسی میںگِھر کر کسی اندوہناک حادثے کا شکار نہ ہو جائے۔

0 Comments