پنجگور سے مستونگ تک، ڈیزل گاڑی میں ایک سفر
طاہر ملنگزئی اکتوبر 28, 2018 بلاگ
سنگت طاہر ملنگزئی
اتوار کی شام تھی، جب میں نے اپنا بیگ اٹھا کر گھر والوں کو اللہ حافظ کر کے دوست کو فون کیا کہ آؤ مجھے بائی پاس روڈ تک پہنچا دو مجھے جانا ہے۔ میں نے اپنا سامان سمیٹا اور اس کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا کہ گاڑی کے ہارن کی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی تو میں بلاجھجک اٹھا اور چلا گیا، دیکھا دوست ہے تو میں گاڑی میں بیٹھ گیا اور منزلِ مقصود کی طرف روانہ ہوگیا۔
جب ہم بائی پاس (سی پیک) روڈ تک پہنچ گئے تو چیک پوسٹ والوں سے پتا چلا کہ کوئٹہ کی ساری بسیں تو نکل گئی ہیں، یہ سن کر مجھ پر خاموشی طاری ہوگئی اور میں روڈ کے کنارے بیٹھ گیا۔ دوست نے کہا چلو واپس چلتے ہیں سارے کوچ تو گئے ہیں، کل صبح کی بسوں سے چلے جانا لیکن میں جانے کی ضد کر رہا تھا کہ کسی بھی حال میں مجھے جانا ہے۔ ذہن میں یہ بات گردش کر رہی تھی کی میری حاضریاں ویسے ہی کم ہیں، اگر کل کی کلاس چھوٹ گئی ہو تو ڈراپ آؤٹ ہونے کے امکانات پکے ہیں۔
آخرکار میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ میں زمیاد گاڑی جو مستونگ تک ایرانی ڈیزل لے جاتی ہے، کے ساتھ چلا جاؤں۔ کل صبح تک گاڑی مستونگ تک پہنچ جائے گی اور صبح سویرے وہاں سے لوکل بسیں کوئٹہ تک جائیں گی اور یوں میں اپنی کلاس اٹینڈ کر پاؤں گا۔ زمیاد سے جانے کے دو فائدے تھے؛ ایک میرے پیسے بچ جائیں گے، دوسرا میں اپنی کلاس کے وقت تک وہاں پہنچ جاؤں گا۔ میرے دوست کو بھی یہ مشورہ اچھا لگا اور وہ اس بات پر متفق ہوگیا۔
ہم روڈ پر کھڑے ہوگئے اور ان بسوں کو روکنے کی کوشش کرنے لگے۔ اس دوران تقریباً ہم نے چار پانچ گاڑیوں کو روکنے کا کہا لیکن بدقسمتی سے ایک بھی نہ رکی۔ ہم نے بھی ہار نہ مانی کیونکہ وہاں سے سیکڑوں اس طرح کی گاڑیاں ڈیزل لے جاتی ہیں۔ اسی دوران ایک گاڑی خود رک گئی اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا، بھائی کہاں جانا ہے؟ میں نے فوراً جواب دے کر کہا مستونگ تک۔ اس نے کہا آؤ بیٹھ جاؤ۔ اس کے یہ کہتے ہی میں آناً فاناً گاڑی میں بیٹھ گیا اور اپنے دوست سے رسمِ سفر اللّٰہ حافظ کہہ دیا۔
مجھے معلوم تھا کہ گاڑی خود کیوں رکی۔ بات یہ تھی کہ گرمی کے موسم میں یہ رات میں سفر کرتے ہیں اور راستے میں اکثر چور ان کو مختلف مقامات پر لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے اس بندے نے خود رک کر مجھے ساتھ لے جانے کی پیشکش کی، وجہ یہ تھی کہ وہ اکیلا تھا۔
طاہر ملنگزئی اکتوبر 28, 2018 بلاگ
سنگت طاہر ملنگزئی
اتوار کی شام تھی، جب میں نے اپنا بیگ اٹھا کر گھر والوں کو اللہ حافظ کر کے دوست کو فون کیا کہ آؤ مجھے بائی پاس روڈ تک پہنچا دو مجھے جانا ہے۔ میں نے اپنا سامان سمیٹا اور اس کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا کہ گاڑی کے ہارن کی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی تو میں بلاجھجک اٹھا اور چلا گیا، دیکھا دوست ہے تو میں گاڑی میں بیٹھ گیا اور منزلِ مقصود کی طرف روانہ ہوگیا۔
جب ہم بائی پاس (سی پیک) روڈ تک پہنچ گئے تو چیک پوسٹ والوں سے پتا چلا کہ کوئٹہ کی ساری بسیں تو نکل گئی ہیں، یہ سن کر مجھ پر خاموشی طاری ہوگئی اور میں روڈ کے کنارے بیٹھ گیا۔ دوست نے کہا چلو واپس چلتے ہیں سارے کوچ تو گئے ہیں، کل صبح کی بسوں سے چلے جانا لیکن میں جانے کی ضد کر رہا تھا کہ کسی بھی حال میں مجھے جانا ہے۔ ذہن میں یہ بات گردش کر رہی تھی کی میری حاضریاں ویسے ہی کم ہیں، اگر کل کی کلاس چھوٹ گئی ہو تو ڈراپ آؤٹ ہونے کے امکانات پکے ہیں۔
آخرکار میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ میں زمیاد گاڑی جو مستونگ تک ایرانی ڈیزل لے جاتی ہے، کے ساتھ چلا جاؤں۔ کل صبح تک گاڑی مستونگ تک پہنچ جائے گی اور صبح سویرے وہاں سے لوکل بسیں کوئٹہ تک جائیں گی اور یوں میں اپنی کلاس اٹینڈ کر پاؤں گا۔ زمیاد سے جانے کے دو فائدے تھے؛ ایک میرے پیسے بچ جائیں گے، دوسرا میں اپنی کلاس کے وقت تک وہاں پہنچ جاؤں گا۔ میرے دوست کو بھی یہ مشورہ اچھا لگا اور وہ اس بات پر متفق ہوگیا۔
ہم روڈ پر کھڑے ہوگئے اور ان بسوں کو روکنے کی کوشش کرنے لگے۔ اس دوران تقریباً ہم نے چار پانچ گاڑیوں کو روکنے کا کہا لیکن بدقسمتی سے ایک بھی نہ رکی۔ ہم نے بھی ہار نہ مانی کیونکہ وہاں سے سیکڑوں اس طرح کی گاڑیاں ڈیزل لے جاتی ہیں۔ اسی دوران ایک گاڑی خود رک گئی اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا، بھائی کہاں جانا ہے؟ میں نے فوراً جواب دے کر کہا مستونگ تک۔ اس نے کہا آؤ بیٹھ جاؤ۔ اس کے یہ کہتے ہی میں آناً فاناً گاڑی میں بیٹھ گیا اور اپنے دوست سے رسمِ سفر اللّٰہ حافظ کہہ دیا۔
مجھے معلوم تھا کہ گاڑی خود کیوں رکی۔ بات یہ تھی کہ گرمی کے موسم میں یہ رات میں سفر کرتے ہیں اور راستے میں اکثر چور ان کو مختلف مقامات پر لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے اس بندے نے خود رک کر مجھے ساتھ لے جانے کی پیشکش کی، وجہ یہ تھی کہ وہ اکیلا تھا۔
میں نے اس سے پوچھا کہ یہ پیسہ بہت زیادہ ہے آپ لوگوں کے لیے؟ تو اس نے معصومانہ انداز سے جواب دیا کہ آپ کو وہاں تک سب کچھ کا پتہ چل جائے گا۔ آہستہ آہستہ گاڑی اپنی دھیمی رفتار سے سفر پہ طرف گامزن تھی کہ ہم سوراب تک پہنچ گئے۔ لیویز چیک پوسٹ نے ہمیں روک لیا اور بہت ہی ڈراؤنے لہجے سے کہا، جلدی کمیشن دے کر جاؤ پیچھے والی گاڑی آ رہی ہے۔ اس نے دوسو روپے نکال کر دے دیے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کس چیز کا کمیشن ہے تو اس نے جواب دیا کہ بس اپنا پیٹ بھرنے کے لیے یہ پیسہ لیتے ہیں۔
اس کے بقول سابقہ دورِ حکومت میں میر عبدالقدوس بزنجو نے تمام چیک پوسٹ والوں کو تنبیہ کی تھی کہ اس طرح کی کوئی کمیشن نہ لیں تو کسی کو بھی مجال نہ تھی کہ وہ کسی گاڑی والے سے کسی قسم کا کمیشن لے۔ جب اس کی حکومت اختتام پذیر ہوگئی تو اسی دن سے ان چیک پوسٹوں نےواپس اپنا یہ گھناؤنا عمل جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔
اس کی یہ بات ختم نہ ہوئی کہ ہم سبزاب ٹو چیک پوسٹ تک پہنچ گئے۔ اسی طرح اس نے بھی اپنا دو سو کا کمیشن لے لیا۔ ہمارا یہ سفر جاری تھا۔ ہم دونوں گفتگو میں مگن تھے۔ اس روڈ پر مجھے بہت سے ایسی گاڑیاں دکھائی دیں جو تصادم کی وجہ سےخاکستر ہوگئی تھیں۔ میں نے اس سے پوچھا زیادہ تر اس طرح کی زمیاد گاڑیوں کے حادثات کیوں ہوتے ہیں؟ تو اس نے بتایا کہ اس کی مختلف وجوہات ہیں؛ کیونکہ ہر کسی کو ٹرپ لگانے کی جلدی ہوتی ہے اور بہت سے ایسے ڈرائیور ہے ، جو دن رات ٹرپ لگاتے ہیں تو نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں اس طرح کے حادثات رونما ہوتے ہیں۔
جب ہم بالی سوراپ پہنچے تو وہاں بھی انہوں نے اپنا دو سو کا بھتہ لے لیا۔ آخرکار ہم ناگ تک پہنچ گئے۔ ناگ جو کہ ضلع واشک کی سب تحصیل ہے تو وہاں کی پولیس


0 Comments