طاہر ملنگزئ
صوبہ بلوچستان بالخصوص پنجگور تربت، خضدار، خاران
و گوادر کوسٹل ایریاز میں رہنے والوں کا ذریعہ معاش، تجارت ایران بارڈر سے منسلک ہیں،
وہ ایران بارڈر سے تیل و خوردنوشی اشیاء کی تجارت کرتے ہیں، کئی سالوں سے ان کا یہ
کاروبار جاری و ساری ہے۔ ان کے خوراک، تعلیم، صحت سب کچھ اسی کی بدولت چل رہے ہیں،
وہ اپنے بچوں کی پڑھائی، بیماری و کھانے پینے سب چیزوں کے اخراجات انہی کاروبار کے
پیسوں سے پورا کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اگر انہیں اچھا روزگار مہیا کی جائے انہیں
کوئی ضرورت نہیں کہ ایران بارڈر میں جا کر وہاں سے تیل لائیں یہ کوئی آسان کام نہیں
بہت سے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے گاڑیوں کو لادنے کے بعد خطرناک وسیع راستہ جوکہ
3، 4 دن کا سفر ط کرنے کے بعد اپنے منزل تک جا پہنچتے ہیں، کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا
ہے کہ 15 سے 20 دن لگ جاتے ہہیں، اتنے دنوں کی بھوک پیاس کے بعد چند پیسے کما کر اپنے
بچوں کی تعلیمی اخراجات کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کے چھولے جلاتے ہیں۔
جب تیل کے کاروبار کی بندش ہوتی ہے تو اس کے بہت
سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہاں کے نوجوانوں کی اکثریت ایرانی تیل کے کاروبار کرتے
ہیں تو اگر ان کا یہ کاروبار بند ہوجائے تو لازماً یہ جوان غلط راہ اختیار کرلیتے ہیں۔
معاشرے میں بد امنی چوری ڈکیتی و فرقہ واریت جیسے ناسور عمل شروع ہوجاتے ہیں۔ یہاں
کے رہنے والوں کا اکثریت کہنا یہی ہے کہ جب بھی بارڈر کچھ وقتوں کے لیے بند ہوتا ہے
تو ہمارے چاگرد میں چوری ڈکیتی منشیات جیسے غلط کام شروع ہوجاتے ہیں۔ یہی بارڈر کی
بدولت ہمارے بیٹوں کی روزگار کے ساتھ ساتھ ہمیں سکون و آرام کی زندگی بسر کرنے کی موقع
مل جاتا ہے۔
میرے ایک سوال کے جواب میں پنجگور کے نیشنل پارٹی
کے ضلعی صدر حاجی صالح محمد کا کہنا تھا، سن اٹھارہ سو سے نوے کی دھائی تک یہاں کے
اکثریت لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت و کھجور کے کاروبار میں تھا لیکن طویل قحط سالی کے
بعد یہاں کے کھجور کے درخت کے ساتھ ساتھ تمام کاریزات خشک ہونے کی وجہ سے یہاں کے زراعت
بہت متاثر ہوئی تھی، اور نوجونوں کا کاروبار ایران بارڈر سے وابسطہ ہوگیا، سن نوے سے
لے کر آج تک یہاں کے لوگ یہی کاروبار کرتے چلے آرہے ہیں، بارڈر کی بندش کے حوالے سے
اس کا کہناتا کہ سلیکٹر نمائندوں کی خاموشی یا رضا مندی سے یہ کام ہورہا ہے، اگر ایران
بارڈر کو سیل یا براڈ لگا کر بند کرتے ہیں تو اس میں ہمارا نقصان ہوتا ہے، ایران تو
قریبی ہمسائے ملکوں سے کاروبار کرتا رہے گا، سب سے بڑا نقصاں یہاں کے بسنے والے لوگوں
کا ہوگا، جب ان کی جیب و پیٹ خالی ہوتی تو کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے وہ غلط راہ اختیار
کر لیتے ہیں یا خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ مزید اس کا کہنا تھا کہ کہ بارڈر
کی بندش ایک انٹر نیشنل پلاننگ بھی ہو سکتی ہے، امریکہ اور یورپ نے ایران کی معیشت
و تجارت پر پاپندی عائد کی ہوئی ہے تو وہ اوپن بارڈر سے اپنا تیل بیجھ رہا ہے، یہ امریکہ
اور یورپ کی دباٶ بھی ہوسکتی ہے کہ ایران کسی قسم کی تجارت نہ کر سکے اور اس کی معیشت
نیچے گر جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو اتنا معلوم نہیں کے مکران کے ساتھ ساتھ خاران
واشک خضدار و دوسرے علاقہ جات میں تیل کے پمپوں میں ہمیں ایرانی پٹرول، ڈیزل دستیاب
ہوتا ہے، پاکستانی پٹرول و ڈیزل کا یہاں نام و نشان نہیں۔
آخر میں اس نے بلوچی بتل کا مثال دیتے ہوئے کہا
کہ؛
بلوچی بتل: کیسگا دانکے نہ دارے چادرا صابون مالے
صوبائی حکومت کی ایماء پر گوادر میں باڑ لگانے کے
بعد مکران میں ایرانی تیل پر پابندی کے فیصلے کو بلوچستان بلخصوص مکران کے غریب عوام
کی معاشی قتل قرار دیتے ہیں اور اس کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی
حکومت عوام کو روزگار اور سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے بلوچ عوام کے خلاف پے درپے وار
کرکے عوام کو مجبور کررہا یے کہ وہ دوسرا راستہ اختیار کریں۔
بلوچ قوم کی نسل کشی کا سلسلہ بدستور جاری ہے ایک
طرف روزگار کا دروازہ بند کردیا گیا ہے دوسری طرف بارڈر کو سیل کرکے بلوچ عوام سے نفرت
کا اظہار کیا جارہا ہے مکران کے عوام کا زریعہ معاش زیادہ تر ایران بارڈر سے وابستہ
ہے جو بڑی مشکل سے اپنا گزر بسر کرکے زندگی کی پیہہ کو چلا رہے ہیں، لیکن حکومت اپنی
لائے گئے سلیکٹیڈ نمائندوں کی موجودگی میں عوام کی معاشی قتل میں برائے راست حصہ ڈال
کر عوام کی زندگیوں کو اجیران بنا دیا گیا ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا
کہ مکران کے عوامی نمائندے عوام دشمن پالیسیوں پر چھپ کا روزہ رکھ کر عوامی جرم کا
مرتکب ہورہے ہیں ان کا کردار عوام دشمنی پر مبنی ہے جو اپنی چھوٹی سے مراعات اور اقتدار
کے نشے میں دُھت خاموشی سے عوام کی معاشی قتل کررہے ہیں چیف سکیریٹری کی طرف سے جاری
نوٹیفکیشن صوبائی حکومت اور صوبائی وزراء کے ایماء اور اشیر باد سے ممکن نہیں ہے چیف
سکیریٹری کی نوٹیفکیشن مکران کے صوبائی وزراء کی منہ پر طمانچہ ہے اس سے ظاہر ہوتا
ہے کہ وہ بلوچوں کو بلوچستان سے بے دخل کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے نیشنل پارٹی ایرانی
تیل پر پاپندی کی مزمت کرتے ہوئے اس عمل کے خلاف عوامی رائے کو منظم کرکے سیاسی مزاحمت
کرے گی۔
پیر محمد پندرہ 15 سالوں سے ایرانی تیل کا کاروبار
کرتے چلے آرہے ہیں، وہ کہتے ہیں میرا ایک بیٹا ہے کوئٹہ میں پڑھ رہا ہے اور دو چھوٹے
بچے ہیں میں اپنے گھر کا واحد کفیل بندہ ہوں جو ایران بارڈر سے تیل لاکر پنجگور میں
بیچتا ہوں، اور اپنے زندگی میں خوش ہوں اپنے بیٹے کے پڈھائی کے اخراجات کے رقوم بھیجنے
کے ساتھ گھر کا گزر بسر کرتا ہوں۔ مجھے علم ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کئی دنوں
کامسلسل دشوار و وسیع سفر طے کرکے کچھ پیسا کماتا ہوں، لیکن مجبور ہوں جو یہ کام میں
کر رہا ہوں مستقبل میں میرا بیٹا نہ کرے یی امید لے کر اسے پڑھا لکھا رہا ہوں تاکہ
اس کا مستقبل روشن ہو یہاں بلوچستان میں اور کوئی اچھا کاروبار نہیں ہے، اگر ہوتا تو
میں کب کا یہ کاروبار چھوڑ دیتا۔
اب یہ بھی بند ہورہا ہے، اگر یہ کروبار بند ہوگیا
تو میرے بیٹے کی پڑھائی ایک ادھورا خواب بن کر رہ جائے گا اور ہمارے گھر کے چولہے بھی
بجھ جائیں گے اس کاروبار کی بندش ہمارے زخموں کے اوپر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا۔ حکومت
وقت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں خدارا۔۔۔! ہمیں اس کاروبار سے بے دخل کرکے نان نفقے کا
محتاج نہ کیا جاٸے۔



0 Comments