انسداد منشیات کا عالمی دن
تحریر: طاہر ملنگزئی
تمام برائیوں کے ساتھ ساتھ منشیات بھی ایک اعلی درجے کا برائ ہے. یہ ریاست اور وہاں کے آباد کاروں کو بھی تباہی و بربادی کی طرف ہمکنار کرسکتا ہے۔
منشیات فروشی اور اس کا استعمال وہ ناسور عمل ہیں جس کی وجہ سے قومیں تباہی و بربادی کی طرف کوچ کرتے ہیں۔ نشے میں اثر انداز ہونے والے عوامل انسانی زندگیوں کو بے دریغ نقصانات پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کی جسم، ذہن، اخلاقی ویلیوز اور قوت ارادی کو اس طرح مفلوج کر کے رکھ دیتی ہیں کہ وہ ما سوائے ایک ڈھانچہ کے اور کوئی کام کی نہیں رہ جاتے ہیں۔
منشیات کے اوتار چھڑاو کا ایک برا اثر معاشرے پر یہ ہوتا ہے کہ اخلاقیات، عزت، ناموس وفا اور حیا کا احساس مکمل طور پر مٹ جاتے ہیں۔ طلاق، گھریلو تشدد، چوری ڈکیتی و بے حیائی جیسی ناسور عمل جنم لیتی ہیں۔
نشے میں ڈوبتے ہوئے شخص نشے کی خاطر غلط نظریہ و سوچ کی بھینٹ چڑھ کر برائ و رسوائی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اور یہ وہ دیمک ہے انسان کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیتا ہے۔
منشیات قوموں کی تباہی و بربادی میں اہم کردار ادا کررہا ہے، وہ نوجوان جن کو قوم سرزمین کلچر و رویات کو زندہ رکھنا ہوتا ہے لیکن وہ نشے میں مبتلا ہوکر سب کچھ بھول جاتے ہیں، اپنی دنیا میں مست و مگن ہوجاتے ہیں، عاشق مجنوں بن کر راہ جاتے ہیں، اپنی ہی جسم ان پر باری بھرکم بوجھ بن جاتی ہیں، پر و خاک میں اپنی قوم روایات احساسات اور وطن کی پاسداری کرسکتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 50 لاکھ سے زیادہ لوگ نشے میں مبتلا ہیں، اس کے باوجود کے یہاں انسداد منشیات کے ادارے (اے این ایف) منشیات کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ پھر بھی منشیات فروشی اور اس کے استعمال کرنے والوں میں روزبروز اضافہ ہوتا چلا جارہاہے۔
گورنمنٹ اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ انسداد منشیات کے خلاف قانونی کارہ جوئی کرکے ان کے خلاف سخت سے سخت اقدامات اٹھائیں، وگرنہ اس قوم اور یہاں کے نوجوان نسل کو کوئی تباہی و بربادی سے نہیں بچا سکتا۔

0 Comments